ایران اور امریکہ کے درمیان جاری بحری رسہ کشی اور لفظی جنگ اب باقاعدہ ایک بڑے عسکری ٹکراؤ میں تبدیل ہو چکی ہے، کیونکہ امریکی فوج کے سینٹرل کمانڈ نے ایران کے اندر متعدد فوجی اہداف پر نئے اور زوردار فضائی حملے کرنے کی باقاعدہ تصدیق کر دی ہے۔ امریکی سینٹ کام کی جانب سے جاری کردہ ہنگامی بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی فورسز نے ایران کی سرزمین پر یہ اضافی حملے اپنے دفاع کے تحت کیے ہیں۔
امریکی عسکری حکام نے واضح کیا ہے کہ ایران کے اندر یہ شدید کارروائی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی براہِ راست ہدایات اور حکم پر کی گئی ہے۔ پینٹاگون کے مطابق یہ حملے ایران کی جانب سے مسلسل کی جانے والی بلاجواز جارحیت اور امریکی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوششوں کا منہ توڑ جواب ہیں۔ ایرانی صدر اور وزیرِ خارجہ کی جانب سے واٹر سپلائی پر حملوں کو جنگی جرم قرار دیے جانے کے محض چند ہی گھنٹوں بعد ہونے والی اس نئی امریکی بمباری نے خلیج فارس کی صورتحال کو انتہائی خطرناک اور جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔
U.S. Central Command forces began launching additional self-defense strikes today at 5:15 p.m. ET against multiple targets in Iran at the Commander in Chief’s direction. The strikes are in response to Iran’s unwarranted and continued aggression.
— U.S. Central Command (@CENTCOM) June 10, 2026
