امریکہ اور ایران کے درمیان طویل کشیدگی کے بعد بالاخر ایک تاریخی اور انتہائی بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باقاعدہ اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ امن معاہدہ مکمل ہو چکا ہے اور وہ اس عظیم کامیابی پر سب کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ اپنے خصوصی بیان میں صدر ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ ایرانی بندرگاہوں پر قائم امریکہ کی بحری ناکہ بندی کو فوری طور پر ہٹا دیا گیا ہے، جس کے بعد اب دنیا بھر کے بحری جہاز اپنی تجارتی سرگرمیاں دوبارہ شروع کر سکتے ہیں اور خطے سے تیل کی عالمی ترسیل بحال ہونے کا وقت آ گیا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اہم تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کو جمعہ کے روز جنگ بندی کے باقاعدہ معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد مکمل طور پر بحری ٹریفک کے لیے کھول دیا جائے گا اور ابتدائی طور پر اس اہم آبی گزرگاہ کو بارودی سرنگوں سے پاک کرنے کے لیے آپریشن شروع کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید واضح کیا کہ ایران کے ساتھ ہونے والے اس تاریخی معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز اب دنیا بھر کے تجارتی جہازوں کے لیے بالکل ٹول فری ہوگی، جس سے عالمی معیشت کو بڑا فائدہ پہنچے گا۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ماضی میں کئی امریکی صدور ایران کے ساتھ امن قائم کرنے میں بری طرح ناکام رہے، لیکن انہوں نے اپنی بہترین حکمتِ عملی سے خطے میں حقیقی معنوں میں مستقل امن و سلامتی قائم کر دی ہے۔
دوسری جانب، امریکی اخبار نیویارک ٹائمز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایران کو سخت وارننگ بھی جاری کی ہے۔ انہوں نے واشنگٹن کے پکے ارادے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران اس عارضی مفاہمت کے بعد حتمی اور مکمل جوہری معاہدے تک نہ پہنچا یا اس نے کسی بھی شرط کی خلاف ورزی کی، تو امریکہ کی جانب سے ایران پر دوبارہ فوجی حملہ کر دیا جائے گا۔ اس بڑی پیش رفت کے بعد اب عالمی منڈیوں اور مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایک بہت بڑی تبدیلی کی توقع کی جا رہی ہے۔
