روس کا ایک انتہائی اہم اور جدید ترین ایٹمی صلاحیت کا حامل لمبی رینج کا اسٹریٹجک بمبار طیارہ ٹی یو 22 ایم 3 سائبیریا کے علاقے ارکتسک میں ایک تربیتی پرواز کے دوران ہولناک حادثے کا شکار ہو کر تباہ ہو گیا ہے۔ روسی وزارتِ دفاع کے مطابق، یہ طیارہ اپنی معمول کی تربیتی پرواز مکمل کرنے کے بعد واپسی پر لینڈنگ کی تیاری کر رہا تھا کہ اچانک فنی خرابی کے باعث گر کر تباہ ہو گیا۔ یہ حادثہ بیلاہ ایئر فورس بیس سے تقریباً 50 کلومیٹر دور کامینکا گاؤں کے قریب ایک گھنے جنگل میں پیش آیا، جو دریا کے کنارے اور فیڈرل ہائی وے سے محض 100 میٹر کی دوری پر واقع ہے۔
روسی حکام اور مقامی گورنر ایگور کوبزیف نے تصدیق کی ہے کہ حادثے کے وقت طیارے میں کمانڈر، اسسٹنٹ، نیویگیٹر اور سسٹم نیویگیٹر سمیت 4 کریو ممبرز سوار تھے، جنہوں نے طیارہ تباہ ہونے سے چند سیکنڈ قبل کامیابی سے ایجیکٹ کر لیا۔ چاروں پائلٹس کو زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے تاہم ان کی جان کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ تربیتی پرواز ہونے کی وجہ سے طیارے میں کوئی اسلحہ یا بارود موجود نہیں تھا، جس کی وجہ سے زمین پر کسی قسم کا کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا، تاہم زمین پر گرتے ہی طیارے میں مہیب آگ بھڑک اٹھی اور دھوئیں کے بادل میلوں دور سے دیکھے گئے۔
واضح رہے کہ تباہ ہونے والا ٹی یو 22 ایم 3 سوویت دور کا ایک انتہائی خطرناک اور آواز کی رفتار سے تیز پرواز کرنے والا لانگ رینج بمبار طیارہ ہے، جسے روس یوکرین اور شام میں جنگی مشنز کے لیے بڑے پیمانے پر استعمال کرتا رہا ہے۔ یہ طیارہ ہائپرسونک کنجل اور کروز میزائل فائر کرنے کی منفرد صلاحیت رکھتا ہے۔ چونکہ روس اب اس ماڈل کے نئے طیارے تیار نہیں کر رہا، اس لیے اس اہم ترین سٹریٹجک بمبار طیارے کی تباہی کو روسی فضائیہ کے لیے ایک بہت بڑا عسکری اور دفاعی نقصان قرار دیا جا رہا ہے۔
