ایرانی صدر کے بعد اب ایران کے دفترِ خارجہ نے بھی امریکہ پر سول انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کا سنگین الزام عائد کر دیا ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج نے ایران کے جنوبی صوبے ہرمزگان کے ساحلی شہر 'سیریک' میں شہریوں کے لیے پینے کے پانی کے بنیادی نظام کو جان بوجھ کر اور دانستہ طور پر نشانہ بنایا ہے۔ ترجمان کے مطابق اس امریکی حملے کے نتیجے میں پانی کے دو بڑے ذخائر مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں، جو خطے کے 10 سے زائد دیہاتوں میں رہنے والے 20 ہزار سے زیادہ شہریوں کو پینے کا صاف پانی فراہم کر رہے تھے۔
ترجمان اسماعیل بقائی نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں اس کارروائی پر شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی حادثاتی یا عام نقصان نہیں ہے، بلکہ یہ ایک سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا "جنگی جرم" ہے جو انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ انسانی زندگی کو برقرار رکھنے والے بنیادی ڈھانچے پر اس قسم کے منظم اور وحشیانہ حملوں پر واشنگٹن کا سخت احتساب کیا جائے۔ امریکی صدر ٹرمپ کی حالیہ معاشی و عسکری ناکہ بندی اور دونوں ممالک کی قیادت کے درمیان جاری اس شدید لفظی جنگ نے خلیج فارس میں جنگ کے بادلوں کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
Water is the pulse of life — and the U.S. is deliberately targetting the lifeblood of the Iranian people.
— Esmaeil Baqaei (@IRIMFA_SPOX) June 10, 2026
As part of its aggression against Iran, the U.S. military has deliberately struck vital civilian water infrastructure in Sirik, Hormozgan, destroying two reservoirs with a… pic.twitter.com/mvdYGvnSyq
.jpg)