خلیج فارس میں جاری کشیدگی اب ایک ہولناک علاقائی جنگ کی شکل اختیار کر گئی ہے، جہاں ایران کی اعلیٰ ترین مشترکہ فوجی کمانڈ نے دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہ 'آبنائے ہرمز' کو تیل کے ٹینکرز اور تمام تجارتی جہازوں کے لیے مکمل طور پر بند کرنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی مہر نیوز ایجنسی کے مطابق، عسکری کمانڈ نے سخت ترین وارننگ جاری کی ہے کہ اب جو بھی بحری جہاز اس آبی راستے سے گزرنے کی کوشش کرے گا، اسے براہِ راست نشانہ بنایا جائے گا۔
اس ہنگامی اعلان کے فوراً بعد، ایران کی نیم سرکاری نیوز ایجنسی 'تسنیم' نے رپورٹ دی ہے کہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے آبنائے ہرمز کے قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے دو بحری جہازوں کو اپنے حملوں کا نشانہ بنایا ہے، جو زبردستی وہاں سے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ دوسری جانب، مہر نیوز ایجنسی نے تصدیق کی ہے کہ آبنائے ہرمز میں امریکی فورسز اور ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے بحری دستوں کے درمیان آمنے سامنے کا شدید عسکری ٹکراؤ اور فائرنگ کا ہولناک تبادلہ شروع ہو چکا ہے۔
امریکی افواج نے ایران کے دفاعی نظام کو مفلوج کرنے کے لیے اب تک ایران کے 7 مختلف ساحلی مقامات کو اپنے شدید حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، امریکی جنگی طیاروں اور میزائلوں نے بندر عباس، سیریک، جزیرہ قشم اور ہنگام سمیت ایران کے اہم ترین ساحلی اور بحری اڈوں پر بمباری کی ہے، جس کے بعد پورے خطے میں جنگ کے شعلے بھڑک اٹھے ہیں اور عالمی تیل کی سپلائی شدید خطرے میں پڑ گئی ہے۔
