کوئٹہ کے سرکاری اسپتال میں دورانِ ڈیوٹی تیزاب گردی کا نشانہ بننے والی معصوم لیڈی ڈاکٹر ماہ نور کے علاج کے حوالے سے کراچی کے نجی اسپتال سے ایک نئی، پُرکشش اور تسلی بخش اپ ڈیٹ سامنے آئی ہے۔ کراچی کے ماہر پلاسٹک اور ری کنسٹرکٹیو سرجنز نے ڈاکٹر ماہ نور کا تفصیلی معائنہ کرنے کے بعد ان کے چہرے کی معمولی گرافٹنگ کر دی ہے۔ ڈاکٹروں کی ٹیم کا کہنا ہے کہ مریضہ کی حالت اب پہلے سے بہتر ہے اور انہیں کسی بڑی یا خطرناک سرجری کی ضرورت نہیں پڑے گی، بلکہ اب وقفے وقفے سے معمولی علاج کے ذریعے ہی ان کا چہرہ دوبارہ بالکل ٹھیک کر دیا جائے گا۔
اس ہولناک واقعے کے بعد سب سے بڑی اور معجزاتی خوشخبری یہ سامنے آئی ہے کہ تیزاب کے حملے کے باوجود ڈاکٹر ماہ نور کی آنکھیں اور دیکھنے کی صلاحیت مکمل طور پر محفوظ ہے۔ اگرچہ تیزاب کی وجہ سے ان کا چہرہ، ناک، ہونٹ اور آنکھوں کا بیرونی حصہ متاثر ہوا ہے اور وہ مجموعی طور پر 13 فیصد جھلس چکی ہیں، لیکن ان کی بینائی بچ جانا ایک بڑی راحت ہے۔ نجی اسپتال میں ری کنسٹرکٹیو سرجنز اور ماہرینِ چشم پر مشتمل پینل نے ان کا تیسری بار مکمل معائنہ کر کے مختلف ٹیسٹ کیے ہیں، اور زخموں کو جراثیم اور انفیکشن سے بچانے کے لیے انہیں فی الحال آئسولیشن وارڈ میں مخصوص نگرانی میں رکھا گیا ہے۔
یاد رہے کہ یہ افسوسناک واقعہ کوئٹہ کے سول اسپتال کے جنرل سرجری وارڈ میں پیش آیا تھا، جہاں اسپتال کے ہی ایک لفٹ آپریٹر ہمایوں شاہ نے ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر ماہ نور پر اچانک تیزاب پھینک دیا تھا، جس کی زد میں آ کر ایک وارڈ بوائے عبدالرزاق بھی زخمی ہوا تھا۔ اس وحشیانہ ظلم کے خلاف کوئٹہ میں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے شدید احتجاج کرتے ہوئے او پی ڈیز کا بائیکاٹ بھی کیا تھا۔ ڈاکٹر ماہ نور کی فیملی اب تک کے علاج سے مطمئن ہے، جبکہ حکومتِ بلوچستان اور حکومتِ سندھ مسلسل متاثرہ خاندان کے ساتھ رابطے میں ہیں اور علاج کے تمام انتظامات خود سنبھال رہے ہیں۔
.png)