Breaking

ایف بی آر کی بڑی وضاحت: سولر پینلز پر کوئی نیا ٹیکس نہیں لگا، سوشل میڈیا سے کمانے والوں پر 5 فیصد ٹیکس عائد


 فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے حکام نے نئے بجٹ کے حوالے سے جاری افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے ایک اہم ٹیکنیکل بریفنگ دی ہے، جس میں ٹیکسز اور دیگر اہم امور پر کھل کر وضاحت کی گئی ہے۔ رکن ایف بی آر حامد عتیق سرور کا کہنا ہے کہ ملک میں سولر پینلز پر کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا ہے، اور نہ ہی سولر کی وجہ سے بجلی مہنگی ہوئی ہے، بلکہ سولر نے تو بجلی کو مزید مہنگا ہونے سے بچایا ہے۔ تاہم، ڈیجیٹل میڈیا کے حوالے سے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے سوشل میڈیا سے کمائی کرنے والے افراد پر 5 فیصد ٹیکس عائد کر دیا گیا ہے۔

بریفنگ کے دوران چھوٹے دکانداروں کے لیے تاجر دوست اسکیم پر بات کرتے ہوئے حکام نے واضح کیا کہ اسلام آباد کے چھوٹے دکانداروں کے لیے بنائی گئی اسکیم کا اطلاق ان افراد پر نہیں ہوگا جو ایک سے زائد دکانوں کے مالک ہیں۔ ایف بی آر حکام کے مطابق، دکانوں کے اندر جا کر کوئی چیکنگ (بیکنگ) نہیں کی جائے گی، تاہم اگر کسی تاجر کے غیر معمولی اخراجات سامنے آئے تو وہاں کارروائی ہو سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک کے 40 لاکھ دکانداروں میں سے اس وقت صرف 6 لاکھ دکاندار رجسٹرڈ ہیں۔

رکن ایف بی آر نے مزید بتایا کہ نئے مالی سال کے لیے 15 ہزار 264 ارب روپے کا جو تاریخی ٹیکس ہدف مقرر کیا گیا ہے، اسے پورا کرنے کے لیے زیادہ تر اقدامات قانون پر سختی سے عمل درآمد (انفورسمنٹ) کے ذریعے کیے جائیں گے، اور اس مد میں 600 ارب روپے کے نئے انفورسمنٹ اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری پوری کوشش ہے کہ سرمایہ کاروں کو ملک میں سرمایہ کاری کی طرف راغب کیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ حکومت کو صرف سپر ٹیکس کی مد میں 322 ارب روپے حاصل ہوئے ہیں، اور اب ٹیکس ریٹ کو بتدریج واپس پرانی سطح پر لے کر آنا چاہیے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی