Breaking

بجٹ 2026-27: ایف بی آر ٹیکسوں کا نیا اور بڑا ہدف مقرر، عوام پر اربوں روپے کے نئے ٹیکس لگانے کی تجویز

 

حکومتِ پاکستان کی جانب سے مالی سال 2026-27 کے نئے وفاقی بجٹ کی دستاویزات سامنے آ گئی ہیں، جس میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے لیے ٹیکس وصولیوں کا ایک بہت بڑا اور تاریخی ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ نئے بجٹ میں ایف بی آر کی کل وصولیوں کا حجم 15 ہزار 264 ارب روپے رکھا گیا ہے، جو کہ جاری مالی سال کے مقابلے میں 2 ہزار 281 ارب روپے سے بھی زیادہ ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق، پچھلے مالی سال 2025-26 کے لیے ایف بی آر کا ٹیکس ہدف 12 ہزار 983 ارب روپے تھا، جسے اب نئے سال کے لیے بڑے پیمانے پر بڑھا دیا گیا ہے۔ اس نئے ہدف کو پورا کرنے کے لیے حکومت نے بجٹ میں 7 ہزار 613 ارب روپے کے ڈائریکٹ (براہِ راست) ٹیکس اور 7 ہزار 651 ارب روپے کے ان ڈائریکٹ (بالواسطہ) ٹیکس عائد کرنے کی بڑی تجویز دی ہے، جس کا سیدھا اثر ملک کے عام اور کاروباری طبقے پر پڑے گا۔

اس کے علاوہ، نئے بجٹ کے تحت انکم ٹیکس کی مد میں ریکارڈ 7 ہزار 480 ارب روپے جمع کرنے کا ہدف طے کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ روزمرہ کی اشیاء پر لگنے والے سیلز ٹیکس کی مد میں محصولات کا ہدف 4 ہزار 927 ارب روپے مقرر ہوا ہے، جبکہ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں حکومت نے 1 ہزار 73 ارب روپے وصول کرنے کا پلان تیار کیا ہے۔ ٹیکسوں کے ان بھاری اہداف سے ظاہر ہوتا ہے کہ نئے مالی سال میں حکومت ٹیکس نیٹ بڑھانے کے لیے سخت اقدامات کرنے جا رہی ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی