Breaking

اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کا ایوان میں دھماکے دار خطاب: حکومت کو ایک ہفتے کا الٹی میٹم، احتجاج کی وارننگ

 

قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف محمود خان اچکزئی نے ایوان میں انتہائی سخت خطاب کرتے ہوئے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، سیاسی انتقام اور بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں پر پابندی کے خلاف اپوزیشن کو مجبوراً سڑکوں پر نکلنا پڑے گا۔ انہوں نے اسپیکر سے مطالبہ کیا کہ قومی اسمبلی میں ملک کی خارجہ پالیسی، دہشت گردی اور کمر توڑ مہنگائی جیسے اہم ترین موضوعات پر فوری طور پر سیر حاصل بحث کرائی جائے۔

جنگ اور ڈیلی پاکستان کی رپورٹس کے مطابق، اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ ایوان میں بیٹھے تمام اراکین عوام کے ووٹوں سے آئے ہیں اور اس وقت ملک کی اکثریت خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ انہوں نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے ایک ہفتے کا الٹی میٹم دیا کہ اگر بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقاتوں پر عائد پابندی فوری طور پر ختم نہ کی گئی، تو حکومت پھر یہ گلہ نہ کرے کہ ہم سے پارلیمنٹ نہیں چل رہی۔ محمود خان اچکزئی نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ اگر سیاسی درجہ حرارت کم کیا جائے گا تو وہ تعاون کے لیے تیار ہیں، بصورتِ دیگر دما دم مست قلندر ہوگا۔

حالیہ سیاسی سرگرمیوں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ محمود خان اچکزئی نے جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے بھی اہم ملاقات کی ہے جس میں حکومت کے خلاف مشترکہ حکمتِ عملی پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔ ذرائع کے مطابق، وزیراعظم شہباز شریف نے اپوزیشن لیڈر کو مذاکرات کے لیے وزیراعظم ہاؤس آنے کی دعوت دی تھی، تاہم انہوں نے وہاں جانے سے معذرت کرتے ہوئے کسی غیر جانبدار مقام پر ملاقات کی تجویز دی ہے۔ محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ آٹھ فروری کے انتخابات میں عوام نے تحریک انصاف کو مینڈیٹ دیا تھا لیکن مصنوعی طریقے سے جیتنے والی جماعت کو اقلیت میں بدل دیا گیا، اب اپوزیشن اتحاد تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کے بینر تلے اس ناانصافی اور مہنگائی کے خلاف تحریک کو مزید تیز کرے گا۔

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی