امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے ایک غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ امریکی بحریہ کی جوہری میزائلوں سے لیس ایک انتہائی خفیہ اوہائیو کلاس بیلسٹک میزائل آبدوز جبرالٹر پہنچ گئی ہے۔ امریکی بحریہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، اس آبدوز کو عسکری زبان میں بومر بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ایک انتہائی جدید اسٹیلتھ پلیٹ فارم ہے جو سمندر کی تہہ میں خاموشی سے رہتے ہوئے جوہری وارہیڈ لے جانے والے بیلسٹک میزائل داغنے کی منفرد اور تباہ کن صلاحیت رکھتا ہے۔ پینٹاگون کا کہنا ہے کہ اس دورے کا مقصد امریکی عسکری صلاحیت کا مظاہرہ کرنا اور نیٹو اتحادیوں کے دفاع کے لیے امریکی عزم کی توثیق کرنا ہے۔
عام طور پر امریکی دفاعی پروٹوکول کے مطابق ان جوہری آبدوزوں کی لوکیشن اور نقل و حرکت کو انتہائی خفیہ رکھا جاتا ہے اور ان کی موجودگی کا کبھی بھی باقاعدہ اعلان نہیں کیا جاتا۔ تاہم، اس بار جبرالٹر جیسے اہم مقام پر اس کی موجودگی کو پینٹاگون کی جانب سے اعلانیہ ظاہر کرنا ایک بڑا تزویراتی یعنی اسٹریٹجک پیغام سمجھا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق، یہ اسٹیلتھ ٹیکنالوجی سے لیس ایک ایسا ناقابلِ شناخت لانچ پلیٹ فارم ہے جو امریکی جوہری دفاعی نظام کے سب سے محفوظ اور مضبوط ترین حصے کی نمائندگی کرتا ہے۔
یہ اہم ترین عسکری پیش رفت ایک ایسے حساس وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی عروج پر پہنچ چکی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں ایران کی جانب سے پیش کی جانے والی جنگ بندی کی تازہ ترین تجویز کو مکمل طور پر ناقابلِ قبول قرار دے کر مسترد کر دیا ہے، جس کے بعد اس آبدوز کی تعیناتی کو تہران کے لیے ایک کھلی اور واضح وارننگ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ جغرافیائی اعتبار سے جبرالٹر بحیرہ روم کا سب سے اہم داخلی راستہ ہے، جہاں اس مہلک آبدوز کی موجودگی سے امریکہ اب مشرقِ وسطیٰ اور یورپ دونوں محاذوں پر بیک وقت انتہائی تیز رفتار اور فوری کارروائی کرنے کی پوزیشن میں آ گیا ہے۔
