Breaking

امریکی محکمہ خزانہ کا بڑا ایکشن: ایران کو ڈرون اور میزائل پرزے فراہم کرنے والے عالمی نیٹ ورک پر نئی پابندیاں

 

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے اور اس کے عسکری ڈھانچے کو کمزور کرنے کے لیے پابندیوں کے ایک نئے مرحلے کا اعلان کیا ہے۔ ان تازہ ترین پابندیوں میں دس افراد اور کمپنیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے، جن میں سے اکثر کا تعلق چین اور ہانگ کانگ سے ہے۔ امریکی حکام کا الزام ہے کہ اس نیٹ ورک نے ایران کو شاہد ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں کی تیاری کے لیے درکار خام مال، انجن اور دیگر اہم پرزہ جات فراہم کرنے میں سہولت کار کا کردار ادا کیا۔ پینٹاگون کے مطابق، یہ نیٹ ورک ایرانی فوج کو عالمی سطح پر ہتھیاروں کی غیر قانونی خریداری اور اپنی پیداواری صلاحیت کو دوبارہ بحال کرنے میں مدد دے رہا تھا۔

اس کارروائی کے دوران جن نمایاں اداروں کو بلیک لسٹ کیا گیا ہے ان میں ہانگ کانگ میں قائم کمپنیاں المستاد لمیٹڈ اور ہانگ کانگ ہیسن انڈسٹری شامل ہیں، جن پر سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کے لیے ہتھیاروں کی خریداری میں معاونت کا الزام ہے۔ ان کے علاوہ چین میں قائم یوشیتا شنگھائی انٹرنیشنل ٹریڈ اور ہائی ٹیکس انسولیشن ننگبو سمیت ان کے قانونی نمائندے لی گین پنگ کو بھی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ ان کمپنیوں پر الزام ہے کہ انہوں نے ایران کو لاکھوں ڈالرز مالیت کا کاربن فائبر اور دیگر حساس مواد فراہم کیا۔ دوسری جانب، دبئی کی کمپنی الیٹ انرجی اور بیلاروس کی کمپنی آرمری الائنس بھی اس نیٹ ورک کا حصہ ہونے کی وجہ سے عتاب کا شکار ہوئی ہیں۔

سیاسی و سفارتی ماہرین کے مطابق، پینٹاگون کا یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ چین اور صدر شی جن پنگ سے ملاقات میں محض چند دن باقی ہیں، جس کے باعث واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان سفارتی تناؤ بڑھنے کا شدید خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ نے واضح کیا ہے کہ وہ ایران کے عسکری اور صنعتی نیٹ ورک کو توڑنے کے لیے پرعزم ہیں اور ان غیر ملکی مالیاتی اداروں اور بینکوں پر بھی سیکنڈری پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں جو ایران کے غیر قانونی تیل کی تجارت یا دیگر معاملات میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔ اس پابندی کا مقصد ایران کے خفیہ بینکنگ سسٹم اور سپلائی چین کو مفلوج کرنا ہے تاکہ اسے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی سرگرمیاں جاری رکھنے کے لیے فنڈز میسر نہ آ سکیں۔

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی