ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے 'قومی یومِ خلیج فارس' کے موقع پر ایک خصوصی بیان جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ خطے میں امریکہ کی "شرمناک شکست" کے بعد اب خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں ایک نئے باب کا آغاز ہو چکا ہے۔ سرکاری میڈیا کے ذریعے جاری کردہ اس تحریری بیان میں سپریم لیڈر نے کہا کہ گزشتہ دو ماہ سے جاری ایران کے خلاف بڑی مہم اور جارحیت اپنے مقصد میں ناکام ہو چکی ہے اور اب اس خطے کا مستقبل امریکہ کے بغیر ہو گا، جو یہاں کے عوام کی ترقی اور خوشحالی کے لیے وقف ہو گا۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی کو بدامنی کی اصل وجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ خلیج فارس کی زمینوں پر امریکیوں کے "کٹھ پتلی اڈوں" میں اتنی سکت بھی نہیں کہ وہ اپنی حفاظت کر سکیں، چہ جائیکہ وہ خطے کے دیگر ممالک کو تحفظ فراہم کریں۔ انہوں نے ایرانی عوام کے جذبے کی تعریف کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایران اپنی جوہری اور میزائل صلاحیتوں کو قومی اثاثہ سمجھتا ہے اور ان کی حفاظت اپنی زمینی و فضائی سرحدوں کی طرح کی جائے گی۔ یہ بیان امریکی صدر ٹرمپ کے ان مطالبات کا براہِ راست جواب ہے جن میں ایران کے میزائل پروگرام کو ختم کرنے پر زور دیا گیا تھا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ سپریم لیڈر کی حیثیت سے تقرری کے بعد سے مجتبیٰ خامنہ ای ابھی تک عوامی منظرِ عام پر نہیں آئے اور ان کے تمام پیغامات تحریری شکل میں سرکاری ٹی وی پر پڑھے جاتے ہیں۔ ایرانی حکام اسے سیکورٹی کی وجہ قرار دیتے ہیں، جبکہ امریکہ کا دعویٰ ہے کہ وہ شدید زخمی ہیں۔ تاہم تہران ان دعووں کی تردید کرتا ہے اور اس کا موقف ہے کہ سپریم لیڈر مکمل طور پر فعال ہیں اور ریاست کے تمام امور کی نگرانی کر رہے ہیں۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز پر اپنی حاکمیت کا اعادہ اور جوہری پروگرام پر سمجھوتہ نہ کرنے کا یہ اعلان جاری مذاکرات میں تہران کے جارحانہ موقف کی عکاسی کرتا ہے۔