افغانستان کی جانب سے جنوبی وزیرستان کے سرحدی علاقے انگور اڈہ میں ایک بار پھر شہری آبادی کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ افغان طالبان رجیم کی جانب سے کی جانے والی اس بلااشتعال گولہ باری کے نتیجے میں ایک مارٹر گولہ مقامی شہریوں، کریم خان اور رحمت اللہ کے گھر پر جا گرا۔ اس افسوسناک واقعے میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد شدید زخمی ہوئے، جن میں ایک خاتون اور چار معصوم بچے شامل ہیں۔ زخمی ہونے والے بچوں کی عمریں تین، آٹھ، دس اور تیرہ سال بتائی گئی ہیں۔ تمام زخمیوں کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال وانا منتقل کر دیا گیا ہے۔
سرحد پار سے ہونے والی اس جارحیت پر پاک فوج نے فوری اور انتہائی سخت ردِعمل کا اظہار کیا۔ پاکستانی فورسز نے ان افغان پوسٹوں کو چھوٹے اور بڑے ہتھیاروں سے مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا جہاں سے گولہ باری کی جا رہی تھی۔ پاک فوج کی اس بھرپور جوابی کارروائی کے نتیجے میں حملہ آور اپنی پوسٹیں چھوڑ کر فرار ہونے پر مجبور ہو گئے اور اطلاعات کے مطابق ان کی چوکیوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
اہلِ علاقہ نے افغان طالبان کی جانب سے معصوم شہریوں اور گھروں کو نشانہ بنانے کی اس کارروائی پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ چند دنوں میں سرحد پار سے فائرنگ کا یہ دوسرا بڑا واقعہ ہے، اس سے قبل بھی اسی علاقے میں تین افراد زخمی ہوئے تھے۔ پاک فوج نے اس صورتحال کے بعد سرحد پر سیکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور کسی بھی مزید جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
