اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کی کور اور پولیٹیکل کمیٹی کا مشترکہ اجلاس منعقد ہوا، جس کے بعد جاری کردہ اعلامیے میں پارٹی نے آزاد کشمیر کے حالیہ انتخابات کو غیر شفاف قرار دیتے ہوئے مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ اعلامیے میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ان انتخابات میں عوامی مینڈیٹ کا مذاق اڑایا گیا ہے اور پولنگ اسٹیشنز پر ووٹرز کی انتہائی کم تعداد اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عوام کا اس انتخابی عمل پر کوئی اعتماد نہیں رہا۔ پی ٹی آئی کے مطابق کشمیری عوام نے مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کو مسترد کر دیا ہے، جو عوامی مسائل کے بجائے صرف اقتدار کی بندر بانٹ میں مصروف ہیں۔
تحریک انصاف نے یاد دہانی کرائی کہ آزاد کشمیر کے دگرگوں حالات اور راولاکوٹ دھرنے کے پیشِ نظر پارٹی نے ان انتخابات کا پہلے ہی اصولی بائیکاٹ کر دیا تھا۔ پارٹی کا استدلال ہے کہ ملک کی سب سے بڑی سیاسی قوت کی عدم شرکت کے بعد ان انتخابی نتائج کی کوئی قانونی یا جمہوری حیثیت باقی نہیں رہی۔ اجلاس کے دوران آزاد کشمیر میں احتجاجی لہر کے دوران ہونے والی ہلاکتوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ ان واقعات کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دی جائے۔
آئندہ کی حکمت عملی کے حوالے سے اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ 5 اگست کو اسلام آباد میں ہونے والے جلسے کی تیاریاں حتمی مراحل میں ہیں اور اس سلسلے میں اتحادی جماعتوں سے مشاورت کا عمل بھی جاری ہے۔ پی ٹی آئی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ یہ جلسہ عوامی امنگوں کا حقیقی ترجمان ثابت ہوگا۔ کور کمیٹی نے ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ پارٹی کے بانی چیئرمین کو آئینی، قانونی اور جیل میں انسانی حقوق کی مکمل فراہمی یقینی بنائی جائے اور انہیں ان کے اہل خانہ، وکلاء اور پارٹی قیادت سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔
مزید برآں، اعلامیے میں تمام سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی اور سیاسی انتقام کا سلسلہ بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ پی ٹی آئی کی قیادت نے پارٹی صفوں میں اتحاد، نظم و ضبط اور یکجہتی کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے تمام تنظیمی عہدیداران کو ہم آہنگی برقرار رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ پارٹی نے واضح کیا ہے کہ بانی چیئرمین کی رہائی اور ملک میں آئین کی بالادستی تحریک انصاف کی اولین اور حتمی ترجیح ہے، جس کے لیے ہر سطح پر جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔
