Breaking

ایران کے ساتھ معاہدہ اسی ہفتے کے آخر تک ہو سکتا ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ

 


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری سفارتی مذاکرات "بہت اچھے" انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ ایک ممکنہ اور حتمی معاہدے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا، "ہو سکتا ہے کہ یہ معاہدہ نہ بھی ہو، کون جانتا ہے؟ لیکن اگر یہ طے پا گیا، تو یہ اسی ویک اینڈ (ہفتے کے آخر) تک ہو سکتا ہے۔ کیونکہ جب آپ ایران کے ساتھ معاملات طے کر رہے ہوں، تو کچھ بھی ہو سکتا ہے۔"

صدر ٹرمپ نے ایک بڑا عزم ظاہر کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ایران کے افزودہ شدہ یورینیم  کے حوالے سے ان کا مؤقف واضح ہے کہ 'وہ اسے حاصل کرنا چاہتے ہیں'۔ انہوں نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ پوری دنیا میں صرف امریکہ اور چین کے پاس ہی وہ ضروری اور جدید ترین "ٹیکنالوجی اور آلات" موجود ہیں جو اس یورینیم کو سنبھال سکتے ہیں، اس لیے 'ہم خود جا کر اسے حاصل کریں گے'۔

ایک اور اہم ترین اعلان میں صدر ٹرمپ نے وعدہ کیا کہ تہران کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط ہوتے ہی تزویراتی طور پر اہم ترین بحری راستہ 'آبنائے ہرمز' فوری طور پر دوبارہ کھول دیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ اس تجارتی بحری راستے کو کھلوانے کے معاملے کو لبنان میں جاری حالیہ جنگ اور کشیدگی سے الگ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، جہاں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے اعلان کے مطابق اسرائیلی افواج مسلسل جنوبی لبنان پر شدید بمباری کر رہی ہیں۔ ٹرمپ نے مائن سویپرز (بارودی سرنگیں صاف کرنے والے جہازوں) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے جہاز وہاں پہلے سے موجود ہیں، اس لیے معاہدہ ہوتے ہی یہ راستہ بہت تیزی سے کھول دیا جائے گا۔

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی