امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر مزید سخت حملوں کی دھمکیوں کے بعد ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے سخت ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا ملک کسی بھی قسم کے بیرونی دباؤ یا دھمکی کے سامنے جھکنے کے بجائے "مضبوطی سے کھڑا رہے گا"۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے ایک بیان میں ایرانی صدر نے امریکی انتظامیہ کی جانب سے ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے انتباہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
صدر مسعود پزشکیان نے اپنے پیغام میں واضح کیا کہ ایران کے ٹرانسپورٹیشن نیٹ ورکس سے لے کر بجلی اور پانی کی صنعتوں جیسے بنیادی اثاثوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں کوئی طاقت کا مظاہرہ نہیں ہیں، بلکہ یہ ایک غیور قوم کے پختہ عزم کے سامنے امریکہ کی مایوسی اور بوکھلاہٹ کی کھلی علامت ہیں۔ ایرانی صدر کا یہ منہ توڑ جواب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے چند منٹ بعد ہی سامنے آیا ہے جس میں ٹرمپ نے گرجدار لہجے میں کہا تھا کہ ان کی انتظامیہ ایران پر "بہت شدید حملہ" کرنے جا رہی ہے۔ اب دونوں ممالک کے سربراہان کی اس براہِ راست لفظی جنگ نے خطے کی صورتحال کو مزید سنسنی خیز بنا دیا ہے۔
زیرساختهای حیاتی، شریانهای زندگی مردماند. تهدید به هدف قرار دادن آنها از شبکههای حمل و نقل تا صنعت برق و آب نه نمایش قدرت بلکه نشانه استیصال در برابر اراده یک ملت است.
— Masoud Pezeshkian (@drpezeshkian) June 10, 2026
ایران با تکیه بر دانش و توان متخصصان، وحدت ملی و همبستگی، در برابر هر فشار و تهدیدی استوار خواهد ماند.
.png)