Breaking

امریکا کا ایٹمی بمبار طیارہ بی 52 ٹیک آف کے فوراً بعد تباہ دھوئیں کے بادل

امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا میں واقع ایڈورڈز ایئر فورس بیس پر پاک فضائیہ کی طرح امریکی فضائیہ کا ایک انتہائی اہم اور ایٹمی صلاحیت کا حامل بی 52 اسٹریٹجک بمبار طیارہ پیر کی صبح ٹیک آف کے فوراً بعد ہولناک حادثے کا شکار ہو کر تباہ ہو گیا ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق، یہ حادثہ مقامی وقت کے مطابق صبح تقریباً 11 بج کر 20 منٹ پر اس وقت پیش آیا جب طیارے نے رن وے سے اڑان بھری اور چند ہی سیکنڈز میں گر کر تباہ ہو گیا۔ طیارہ گرتے ہی زمین پر ایک زوردار دھماکہ ہوا اور وہاں آگ کا مہیب طوفان برپا ہو گیا، جبکہ کالے دھوئیں کا ایک بہت بڑا بادل فضا میں بلند ہوا جسے میلوں دور صحرائی علاقے سے واضح طور پر دیکھا جا سکتا تھا۔

امریکی ایئر فورس کے حکام اور بیس انتظامیہ کے مطابق، بی 52 بمبار طیارہ عام طور پر 5 کریو ممبرز کے ساتھ پرواز کرتا ہے، تاہم حادثے کے وقت طیارے میں کتنے لوگ سوار تھے اور ان میں سے کوئی ہلاک یا زخمی ہوا ہے یا نہیں، اس حوالے سے تاحال کوئی باقاعدہ تصدیق یا تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔ واقعے کے فوراً بعد ایڈورڈز ایئر فورس بیس کی ہنگامی امدادی ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر ریسکیو آپریشن شروع کر دیا ہے اور جائے وقوعہ کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے۔ امریکی فضائیہ نے حادثے کی اصل وجوہات جاننے کے لیے اعلیٰ سطحی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ ایڈورڈز ایئر فورس بیس پر ان دنوں بی 52 طیاروں کے ریڈار سسٹم اور انجنوں کو جدید ترین بنانے کے لیے اہم تجربات کیے جا رہے ہیں تاکہ انہیں نئی کنفیگریشن میں تبدیل کیا جا سکے۔ تاہم، امریکی فضائیہ نے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا کہ کریش ہونے والا یہ مخصوص طیارہ اسی اپ گریڈ پروگرام کا حصہ تھا یا کسی عام مشن پر تھا۔ اس اہم ترین اور بڑے بمبار طیارے کی تباہی کو امریکی دفاعی نظام کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔

 

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی