مشرقِ وسطیٰ کی جنگ میں اس وقت کی سب سے بڑی اور ہولناک پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ایران کی جانب سے اردن اور کویت پر بیک وقت متعدد درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل داغ دیے گئے ہیں۔ اس ہنگامی صورتحال کے بعد پورے خطے میں جنگ کے خطرات انتہائی سنگین ہو چکے ہیں۔
بریکنگ نیوز کے مطابق، ایران کی جانب سے میزائل داغے جانے کے فوراً بعد اردن کے مختلف علاقوں میں فضائی حملوں کے سائرن گونج اٹھے ہیں، جس سے شہریوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، ایران کی جانب سے یہ بیلسٹک میزائل حملہ اردن میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔ دوسری جانب، دفاعی ذرائع کا کہنا ہے کہ کویت میں قائم امریکی فوج کا 'علی السالم ائیر بیس' اور کویت کا بندرگاہی علاقہ بھی ان ایرانی میزائلوں کا ممکنہ ہدف ہیں۔ ان پے در پے میزائل حملوں کے بعد اردن اور کویت سمیت تمام پڑوسی ممالک میں ائیر ڈیفنس سسٹم کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور صورتحال منٹ بہ منٹ مزید کشیدہ ہوتی جا رہی ہے۔
بریکنگ نیوز کے مطابق، ایران کی جانب سے میزائل داغے جانے کے فوراً بعد اردن کے مختلف علاقوں میں فضائی حملوں کے سائرن گونج اٹھے ہیں، جس سے شہریوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، ایران کی جانب سے یہ بیلسٹک میزائل حملہ اردن میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔ دوسری جانب، دفاعی ذرائع کا کہنا ہے کہ کویت میں قائم امریکی فوج کا 'علی السالم ائیر بیس' اور کویت کا بندرگاہی علاقہ بھی ان ایرانی میزائلوں کا ممکنہ ہدف ہیں۔ ان پے در پے میزائل حملوں کے بعد اردن اور کویت سمیت تمام پڑوسی ممالک میں ائیر ڈیفنس سسٹم کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور صورتحال منٹ بہ منٹ مزید کشیدہ ہوتی جا رہی ہے۔
