الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، عید الاضحیٰ کی آمد سے محض چند گھنٹے قبل غزہ شہر کے مشہور الرمال محلے میں ایک رہائشی عمارت پر اسرائیلی فضائی حملے میں کم از کم 2 فلسطینی شہید اور 20 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔ یہ افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب پورا علاقہ عید کی تیاریوں اور شاپنگ میں مصروف خاندانوں سے بھرا ہوا تھا۔ الشفاء ہسپتال کے ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ ملبے سے اب تک 2 لاشیں اور 20 سے زائد زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا جا چکا ہے، جن میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔ اسرائیلی جنگی طیاروں کی اس براہِ راست بمباری سے کثیر المنزلہ عمارت زمین بوس ہو گئی ہے اور ملبے تلے دبے مزید افراد کو نکالنے کے لیے امدادی کارروائیاں جاری ہیں، جس کے باعث شہداء کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔
اس ہولناک حملے نے عید کے مقدس تہوار کے موقع پر پورے غزہ شہر میں شدید خوف و ہراس اور سوگ کی لہر دوڑا دی ہے۔ الشفاء ہسپتال کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ہسپتال پہلے ہی ایندھن، ادویات اور بنیادی طبی سامان کی شدید ترین قلت کا شکار ہے، جس کی وجہ سے ہنگامی حالت میں لائے گئے شدید زخمیوں کی جانیں بچانے اور انہیں فوری طبی امداد دینے میں ڈاکٹروں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ عید الاضحیٰ کے موقع پر جہاں دنیا بھر کے مسلمان خوشیاں منا رہے ہیں، وہیں غزہ کے لاکھوں بے گھر افراد کے پاس نہ تو کھانے کو خوراک ہے اور نہ ہی سر چھپانے کو کوئی محفوظ پناہ گاہ، اور اس تازہ بمباری نے عید کے روایتی تہوار کو ایک بار پھر ماتم اور گہرے صدمے میں تبدیل کر دیا ہے۔
