جہلم میں مشہور مذہبی اسکالر انجینئر محمد علی مرزا پر ایک بار پھر قاتلانہ حملہ کیا گیا ہے، تاہم وہ اس حملے میں مکمل طور پر محفوظ رہے۔ یہ واقعہ ان کی 'قرآن و سنت ریسرچ اکیڈمی' کے باہر اس وقت پیش آیا جب ایک نامعلوم مسلح شخص نے 9 ایم ایم پستول سے ان پر سیدھی فائرنگ کر دی۔ وہاں موجود سیکیورٹی ٹیم نے فوری
جوابی کارروائی کی جس کے نتیجے میں حملہ آور موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔
پولیس حکام کے مطابق فائرنگ کے تبادلے میں ایک پولیس کانسٹیبل زخمی ہوا ہے جسے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں اس کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔ ہلاک ہونے والے حملہ آور کی شناخت کے لیے نادرا سے رابطہ کیا جا رہا ہے تاکہ واقعے کے پسِ پردہ محرکات کا پتہ لگایا جا سکے۔ واضح رہے کہ انجینئر محمد علی مرزا پر پہلے بھی کئی بار قاتلانہ حملے ہو چکے ہیں اور وہ ماضی میں اپنے بیانات کی وجہ سے مختلف تنازعات کا شکار بھی رہے ہیں۔ اس واقعے کے بعد علاقے میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔
