ایران کے پہلے نائب صدر محمد رضا عارف نے مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ کشیدہ صورتحال اور امریکی بحری ناکہ بندی کے تناظر میں ایک انتہائی اہم اور سخت بیان جاری کیا ہے، جس نے عالمی منڈیوں اور سفارتی حلقوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر جاری کردہ اپنے ایک مفصل بیان میں نائب صدر نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ "آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی اب مفت نہیں ملے گی"۔ انہوں نے بین الاقوامی طاقتوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ منطق سے بالاتر ہے کہ ایک طرف ایران کی تیل کی برآمدات پر غیر قانونی پابندیاں لگا کر اس کی معیشت کا گلا گھونٹا جائے اور دوسری طرف یہ توقع رکھی جائے کہ ایران خطے میں دوسروں کی تجارتی نقل و حمل کے لیے مفت سیکیورٹی اور محفوظ راستہ فراہم کرتا رہے گا۔
The security of the Strait of Hormuz is not free. One cannot restrict Iran’s oil exports while expecting free security for others. The choice is clear: either a free oil market for all, or the risk of significant costs for everyone. Stability in global fuel prices depends on a…
— Aref| First VP Iran (@fvpresidentiran) April 19, 2026
محمد رضا عارف نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ دنیا کے سامنے اب صرف دو ہی راستے باقی رہ گئے ہیں؛ یا تو تمام ممالک کے لیے تیل کی ایک آزاد اور شفاف مارکیٹ کو یقینی بنایا جائے جہاں ایران بھی اپنی مصنوعات فروخت کر سکے، یا پھر اس ضد کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سنگین خطرات اور بے پناہ مالی و جانی اخراجات کے لیے تیار رہا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں کا استحکام براہِ راست ایران کے خلاف جاری معاشی دہشت گردی اور فوجی دباؤ کے خاتمے سے جڑا ہوا ہے۔ جب تک ایران اور اس کے اتحادیوں پر سے یہ دباؤ مستقل اور یقینی طور پر ختم نہیں کیا جاتا، تب تک عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے استحکام کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔
ایرانی قیادت کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو معاشی اور دفاعی ڈھانچے کی تباہی کی دھمکیاں دے رکھی ہیں اور بحیرہ عرب میں امریکی بحریہ کی جانب سے ایرانی جہازوں کو نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز میں سیکیورٹی تعاون سے ہاتھ کھینچ لیا یا اس اہم آبی گزرگاہ کو بند کرنے کی کوشش کی تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کنٹرول سے باہر ہو سکتی ہیں، جس کا اثر براہِ راست پوری دنیا کی معیشت پر پڑے گا۔ تہران کی جانب سے یہ پیغام واضح ہے کہ وہ اب دفاعی پوزیشن سے نکل کر جوابی اقدامات کی پالیسی پر عمل پیرا ہونے کا ارادہ رکھتا ہے۔