Breaking

بیروت پر اسرائیلی حملے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کا بڑا ایکشن ایران سے جوابی کارروائی نہ کرنے کی اپیل

 

امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے تاریخی امن معاہدے کے آخری لمحات میں بیروت پر اسرائیلی حملے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا سب سے بڑا اور اہم ترین بیان سامنے آیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران سے باقاعدہ رابطہ کر کے یہ اپیل کریں گے کہ وہ بیروت میں ہونے والی ہلاکتوں کے جواب میں اسرائیل پر کسی قسم کی کوئی جوابی فوجی کارروائی نہ کرے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بیروت پر اسرائیلی بمباری نے معاملات کو ضرور متاثر کیا ہے جس کی وجہ سے تاریخی معاہدے پر دستخط کا عمل چند گھنٹے تاخیر کا شکار ہوا ہے۔

امریکی میڈیا آؤٹ لیٹ کے مطابق، صدر ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ جنگ ختم کرنے کے لیے امریکہ اور ایران کا یہ تاریخی معاہدہ اب بھی بالکل ٹریک پر ہے اور اتوار کے روز ہی اس پر دستخط کر دیے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ معاہدے پر دستخط بالکل اسی وقت ہونے والے تھے لیکن اسرائیلی حملے نے سب کچھ ہلا کر رکھ دیا، جس کے باعث اب اس کی ٹائم لائن میں چند گھنٹوں کی تاخیر کی گئی ہے۔ صدر ٹرمپ نے شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب ان کے مشیروں نے انہیں بیروت پر اسرائیلی حملے کے بارے میں بتایا تو وہ دنگ رہ گئے اور وہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو پر شدید برہم ہوئے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ اقدام انتہائی غلط تھا اور انہیں یقین نہیں آ رہا تھا کہ معاہدے پر دستخط سے ٹھیک ایک گھنٹہ پہلے اسرائیل نے ایسا قدم اٹھایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ ہونے والی یہ ڈیل خود اسرائیل کے حق میں بھی بہت بہتر ثابت ہوگی کیونکہ اس کے نتیجے میں ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے سے مستقل طور پر روک دیا جائے گا، اس کے پاس موجود ایٹمی مواد کو ٹھکانے لگایا جائے گا اور عالمی مبصرین کو ایران کی ایٹمی تنصیبات کا اچانک اور کسی بھی وقت معائنہ کرنے کی مکمل اجازت ہوگی۔

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی