Breaking

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دو روزہ تاریخی دورے پر بیجنگ پہنچ گئے: نائب صدر ہان ژنگ نے ریڈ کارپٹ پر استقبال کیا

 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تقریباً دس برسوں میں کسی بھی امریکی رہنما کے پہلے تاریخی دورے پر چین کے دارالحکومت بیجنگ پہنچ گئے ہیں۔ بدھ کے روز امریکی صدر کا خصوصی طیارہ ایئر فورس ون بیجنگ پہنچا جہاں رن وے پر ریڈ کارپٹ بچھا کر ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔ صدر ٹرمپ کے استقبال کے لیے چین کے نائب صدر ہان ژنگ خود موجود تھے، جن کا شمار چین کے اعلیٰ ترین رہنماؤں میں ہوتا ہے۔ سفارتی ماہرین کے مطابق ٹرمپ کے استقبال کے لیے نائب صدر کو بھیجنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ چین کی اعلیٰ قیادت امریکی صدر کا بے حد احترام کرتی ہے، کیونکہ اس سے قبل دو ہزار سترہ میں ٹرمپ کے دورے پر استقبال کے لیے ایک سٹیٹ کونسلر کو بھیجا گیا تھا۔ یاد رہے کہ گزشتہ برس ٹرمپ کی بطور صدر حلف برداری کی تقریب میں بھی چینی نائب صدر نے خصوصی شرکت کی تھی۔

صدر ٹرمپ کے ہمراہ اس دورے پر امریکی صدر کے بیٹے ایرک ٹرمپ اور معروف بزنس ٹائیکون ایلون مسک سمیت امریکہ کی چند بڑی کاروباری شخصیات اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹیو آفیسرز بھی بیجنگ پہنچے ہیں، جن میں ایپل، ٹیسلا اور نویڈیا کے سربراہان شامل ہیں۔ یہ دورہ اصل میں مارچ میں ہونا تھا، لیکن امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے باعث اسے مؤخر کر دیا گیا تھا۔ روانگی سے قبل ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا تھا کہ وہ اپنے چینی ہم منصب شی جن پنگ کو کہیں گے کہ وہ چین کو بڑی امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے کھولیں۔ اس دورے میں مشرقِ وسطیٰ کی جنگ، آبنائے ہرمز کی بندش اور اس کے خاتمے کے لیے ہونے والی ثالثی میں چین کے ابھرتے ہوئے کردار پر بھی بات چیت متوقع ہے، اگرچہ ٹرمپ نے روانگی سے قبل کہا تھا کہ انہیں ایران کے معاملے پر چینی صدر کی مدد کی ضرورت نہیں ہے۔

اس اہم ترین ملاقات میں بیجنگ کے ایجنڈے پر سرفہرست گزشتہ اکتوبر میں طے پانے والی تجارتی جنگ بندی میں توسیع ہے، جس نے دونوں ممالک کے درمیان محصولات میں اضافے کو روک دیا تھا۔ حالیہ برسوں میں بڑھتی ہوئی تجارتی رسہ کشی اور پابندیوں کے باعث دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم دو ہزار بائیس کے چھ سو نوے ارب ڈالر کے مقابلے میں کم ہو کر گزشتہ برس چار سو چودہ ارب ڈالر رہ گیا ہے۔ صدر ٹرمپ کے لیے ایک بڑا مسئلہ اس تجارت کی غیر متوازن نوعیت ہے، جس میں امریکہ نے چین سے دو سو ارب ڈالر سے زیادہ مالیت کی اشیا خریدیں جبکہ چین کو کم مالیت کا سامان بیچا۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے چین کو سویا بین، گائے کا گوشت اور بوئنگ طیاروں جیسی امریکی مصنوعات کی فروخت بڑھانے پر بات ہوگی۔ دورے کی مرکزی سرگرمیاں جمعرات کو شروع ہوں گی جہاں صدر شی جن پنگ گریٹ ہال آف دا پیپل میں ٹرمپ کا استقبال کریں گے اور جمعہ کو کمیونسٹ پارٹی کے ہیڈکوارٹر ژونگنانہائی گارڈن میں دونوں رہنماؤں کے درمیان چائے پر دوطرفہ ملاقات اور ظہرانہ ہوگا۔

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی