Breaking

امریکا ایران کشیدگی: چین کا پاکستان سے ثالثی تیز کرنے کا مطالبہ، وزرائے خارجہ کا اہم ترین ٹیلیفونک رابطہ

 

چینی خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق، چین نے پاکستان سے باقاعدہ مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری سنگین عسکری کشیدگی کو کم کرنے اور بندش کا شکار آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے کے لیے اپنی ثالثی کی سفارتی کوششوں کو مزید تیز کرے۔ اس سلسلے میں چین کے وزیر خارجہ وانگ ای نے اپنے پاکستانی ہم منصب اسحاق ڈار سے ایک اہم ٹیلیفونک رابطہ کیا، جس میں مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتحال، عارضی جنگ بندی میں توسیع اور بحری تجارتی راستوں کی بحالی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے چینی ہم منصب کو اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ بالواسطہ مذاکرات کی پیش رفت سے آگاہ کیا اور پاکستان کی سفارتی کوششوں پر چین کی مسلسل حمایت کا شکریہ ادا کیا۔

یہ رابطہ ایک ایسے انتہائی نازک وقت پر ہوا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کے لیے بیجنگ پہنچ رہے ہیں، جہاں اس سمٹ کے ایجنڈے کا سب سے اہم حصہ ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کو مستقل بنیادوں پر کھلوانا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے حالیہ بیانات میں وزیراعظم شہباز شریف اور عسکری قیادت کی سفارتی کوششوں کو شاندار قرار دیتے ہوئے پاکستان کی ثالثی پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان اس وقت دونوں فریقین کے لیے ایک سرگرم اور غیر جانبدار میزبان کا کردار ادا کر رہا ہے، جہاں حالیہ مذاکرات کے دوران ایران اور امریکہ کے متعدد سفارتی و سیکیورٹی عملے کے طیارے لاجسٹک سپورٹ کے لیے پاکستان پہنچے۔ اس کے علاوہ، پاک چین پانچ نکاتی امن فارمولے کے تحت مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی اور تجارتی راستوں کی بحالی کے لیے کام کیا جا رہا ہے، جبکہ چین نے حساس سفارتی رابطوں کو کسی بھی بیرونی ہیکنگ یا نگرانی سے محفوظ رکھنے کے لیے تہران اور اسلام آباد کو ایک محفوظ سیٹلائٹ ہاٹ لائن بھی فراہم کی ہے۔

چین اس تنازع سے براہِ راست متاثر ہو رہا ہے کیونکہ بیجنگ اپنی خام تیل کی درآمدات کا پچاس فیصد سے زائد حصہ آبنائے ہرمز کے راستے ہی حاصل کرتا ہے۔ اسی لیے چینی وزیر دفاع ایڈمرل ڈونگ جون نے واضح کیا ہے کہ وہ امریکی ناکہ بندی کے باوجود ایران سے اپنی تجارتی ڈیلز برقرار رکھیں گے۔ دوسری جانب، صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی درخواست پر چین ایران کو ہتھیار فراہم نہ کرنے پر راضی ہو گیا ہے جس کے بدلے امریکہ آبنائے ہرمز کو مستقل طور پر کھلوانے کے لیے سفارت کاری تیز کرے گا۔ تاہم، اس وقت پاکستان کی ثالثی کوششوں کو سب سے بڑی رکاوٹ کا سامنا ہے کیونکہ ایران نے شرط رکھی ہے کہ امریکہ پہلے خلیج میں اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرے، جسے امریکہ نے ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ حال ہی میں امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے ایران کے دو فوجی اڈوں پر بمباری اور جواب میں ایرانی میزائل حملوں کے باعث خطے میں عسکری تناؤ بڑھ گیا ہے اور عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں ایک سو سات ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہیں۔ ادھر امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم جیسے سخت گیر رہنماؤں نے پاکستان کی غیر جانبداری پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے، تاہم پاکستانی دفترِ خارجہ نے ان تمام الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے خطے میں امن کے لیے اپنا مصالحتی کردار جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی