پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں میں ایک اور تاریخی سنگِ میل کا اضافہ ہوا ہے جب پاک بحریہ نے مقامی طور پر تیار کردہ جدید ترین اینٹی شپ ویپن سسٹم تیمور ایئر لانچڈ کروز میزائل کا کامیاب تجربہ کیا۔ مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق، یہ تجربہ پاک بحریہ کی آپریشنل تیاریوں اور سمندر میں دور تک ٹھیک نشانے پر وار کرنے کی صلاحیت کا ایک طاقتور مظاہرہ ہے، جس نے دشمن کے سمندری خطرات کا کھوج لگانے اور انہیں ناکارہ بنانے کی جنگی صلاحیتوں کی توثیق کر دی ہے۔
ٹیکنالوجی کے لحاظ سے تیمور میزائل سسٹم انتہائی جدید خصوصیات کا حامل ہے۔ یہ میزائل چھ سو کلومیٹر تک کے فاصلے پر موجود زمینی اور بحری اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ یہ سطح سمندر سے انتہائی کم بلندی پر پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس کی وجہ سے یہ دشمن کے ریڈاروں اور فضائی دفاعی نظام کی نظروں سے بچ کر اپنا مشن مکمل کر سکتا ہے۔ تقریباً بارہ سو کلوگرام سے کم وزنی یہ میزائل جدید ترین نیویگیشن اور گائیڈنس سسٹم سے لیس ہے اور آواز کی رفتار کے قریب سفر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
Pakistan Navy successfully conducted live weapon firing of Taimoor Air Launched Cruise Missile, an indigenously developed anti ship weapon system, demonstrating precision strike capability and operational readiness at extended ranges. 1/2 pic.twitter.com/AzN9NR36wU
— DGPR (Navy) (@dgprPaknavy) April 21, 2026
آئی ایس پی آر کا مزید کہنا ہے کہ اس تجربے سے روایتی میدان میں مسلح افواج کی کثیر الجہتی اور مربوط ضرب لگانے کی قوت کو مزید تقویت ملی ہے۔ یہ کامیابی پاکستان کی دفاعی صنعت میں خود انحصاری اور تکنیکی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس اہم دفاعی کامیابی پر صدرِ مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر اور تمام عسکری قیادت نے قوم، متعلقہ سائنسدانوں اور انجینئرز کو مبارکباد پیش کی ہے۔ پاک بحریہ نے ایک بار پھر اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ ملک کے بحری مفادات اور علاقائی پانیوں کی خود مختاری کے تحفظ کے لیے ہر وقت تیار ہے۔